Dukhi Shayari Written By Ishal Fatima

اک درد ہے دریا کی مانند

اک آنچ ہے جو من کو پگھلاتی ہے

اک آرزو ہے جو سپنا بن کر

آنکھوں سے نیند چراتی ہے

اک یاس ہے جو کانٹا بن کر

ہر پل مجھے تڑپاتی ہے

اک خلش ہے جو

چنگاری بن کر

ذندگی کو سلگاتی ہے

اک ٹھوکر ہے جو

قدم قدم پر

مجھ کو سنبھلنا سکھاتی ہے

اک آگہی ہے جو

ناگن بن کر

چپکے سے ڈس جاتی ہے

میں تو نقش ہوں اک صحرا پہ

جسے گرد زندگی

دھیرے دھیرے مٹاتی ہے

دھیرے دھیرے…………….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *